Showing posts with label خبریں. Show all posts
Showing posts with label خبریں. Show all posts

پانچ پاکستانی خاتون اداکاروں میں خوبصورتی کے ساتھ ساتھ


پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں دن با دن نئے چہروں کا اضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ پاکستان کی میڈیا انڈسٹری اتنی بڑی نہیں فلموں اور ڈراموں میں ایک جیسے چہرے ہی دیکھنے کو ملتے ہیں آج کے اس بلوگ میں ہم پانچ پاکستانی اداکاروں کا ذکر کریں گئے جو خوبصورتی کے ساتھ ساتھ بےپنہ صلاحیتے کی مالک ہیں.  


صنم سعید
عام طور پر صیم سعید کشف کے نام سے جانی جاتی ہیں یہ نام ان کو اپنے سپر ہٹ ڈرامہ سیریل 'زندیگی گلزار ہے' کی وجہ سے ملا۔ تھیٹر سے اداکاری کا کیرئر شروع کیا اور بہت کم عرصے میں وہ پاکستان ڈرامہ صنعت کی صفیہ اول کی فنکار بن گئی۔ صنم سعید کچھ فلموں میں بھی کام کر رہی ہیں اور حال ہی میں انہوں نے اپنی فلم 'کیک' سے بہت تعریفیں سمیٹی۔


صنم بلوچ
صنم بلوچ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی سدا بھار اداکارہ ہیں، صنم بلوچ نے ٹیلی ویژن کے لئے بہت زیادہ کام کیا۔ تاہم صنم بلوچ نے کسی فلم میں کام نہیں کیا.ان کے مشہور ڈراموں میں داسستان، در شہوار، کنکر اور بہت سی دیگر ڈرامے شامل ہیں۔ صنم بلوچ نے ائیر فورس کے لیے ایک ٹیلی فلم میں بھی کام کیا۔ صنم بلوچ نے ہمیشہ اپنی اداکاری سے اپنے ناظریں کو حیرت میں ڈالا اور اپنے چاہنے والوں کو کبھی ماہوس نہیں کیا۔


آمنہ شیخ
آمنہ شیخ – ایک حقیقی اداکارہ ہے انہوں نے ہمیشہ اپنی اداکاری سے ناظریں کو متاثر کیا۔انہوں نے ڈراموں کے ساتھ ساتھ کچھ فلموں میں بھی کام کیا۔ حال ہی میں ان کی فلم کیک ریلیز ہوئی جس میں ناظریں ان کا کام دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ آمنہ شیخ کی ایک اور فلم 'Seedlings' کو بین الاقوامی پہچان ملی اور اس فلم کو بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے لیے نامزد کیا گیا۔



صبا قمر

صبا قمر - پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی سپر اسٹار اداکاروں میں سے ایک ہیں۔ وہ بالی وڈ کی ایک بلاک بسٹر فلم "ہندی میڈیم" میں کام کر چکی ہیں جس کی مقبولیت میں ابھی تک کمی نہیں آئی۔ صبا قمر کو فلم فیئر آوارڈ میں debut star کے طور پر نامذد کیا گیا۔ ان کی اداکاری جس طرح سے وہ کردار نبھاتی ہیں نہایت عمدہ ہوتی ہے۔ صبا قمر نے دو سپر ہٹ پاکستانی فلموں میں کام کیا "منٹو" اور لاہور سے آگے۔


سجال علی
سجال علی نہ صرف اپنی خوبصورتی بلکہ اپنی بہترین اداکاری سے بھی جانی جاتی ہیں۔ انہوں نے کم عمری ہی میں بڑے بڑے کام سرانجام دیے۔ یہ اداکار بہت خوش قسمت ہے کیونکہ اس نے سپر اسٹار 'سری دیوی' (مرحوم) کے ساتھ ایک بڑی فلم میں کام کیا، جس کو پاکستان کے ساتھ ساتھ پڑوسی ملک کے ناظرین نے بھی بہت پسند کیا. اس کی اداکاری اور ادائے بہت خوب ہیں، سجال علی نے بہت سے ہٹ ڈراموں میں کام کیا  گل رانہ، یقین کا سفر، او رنگریزہ اور دیگر شامل ہیں. بہت جلد  وہ ڈرامہ سیریل 'آنگان' میں مروا ہوکن اور احد رضا میر کے ساتھ جلوہ گر ہوں گئی۔

کیلی فورنیا کے جنگلات میں لگنے والی آگ کوئی معمولی آگ نہیں ہے

دنیا بھر کا میڈیا حسب ضرورت اسکا ذکر ایک ماہ سے کر رہا ہے۔ یہ قیامت صغریٰ ہے لاکھوں ایکڑ پہ پھیلا ایک جنگل جل رہا ہے جس میں جنگلی حیات کی نایاب ترین نسلیں اور دنیا میں پائی جانے والی ان کی انتہائی محدود اقسام لقمہ اجل بن چکی ہیں، اربوں ٹن کی لکڑی، حشرات، انمول نسل کے پرندے ، میلوں دور پہلی قدرتی جڑی بوٹیاں
اور صدیوں پرانے درخت جن میں کچھ کی لمبائی چار سو سے چھ سو فٹ تک تھی جل کے کوئلہ بن چکے ہیں۔ یہ امریکہ کے وجود سے لے کر اب تک کی سب سے بڑی اور بھیانک آگ ہے۔ آگ اس وقت ساڑھے سولہ لاکھ (1,667,855) ایکڑ سے زائد کے علاقے کو نگل چکی ہے
اور ساوتھ کیلیفورنیا کے 7,579 مقامات پہ لگی ہوئی ہے جس سے اب تک 2.975 بلین یو ایس ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔ آگ پر قابو پانے کے لئے امریکی وسائل کم پڑ رہے ہیں دنیا کے مختلف ممالک سے فائیر فائٹرز اور ریسکیو ٹیمیں اس مشن پہ لگی ہوئی ہیں جن میں ورکرز کی تعداد ہزاروں میں ہے۔
دنیا بھر کے سائنٹسٹ اور ماہرین کی مدد مانگ لی گئی ہے جو آگ پہ قابو پانے کے فارمولے اور اس کے نقصانات سے بچاو کی تدبیریں کر رہے ہیں۔ آگ کے مناظر بھی انتہائی خوفناک اور ناقابل بیان ہیں، ساوتھ میں لگنے والی آگ سینٹر تک پہنچ چکی ہے جبکہ نارتھ کیلی فورنیا میں رات کو انگاروں کی بارش ہوتی ہے

اور اگر ہوا چلے تو چنگاریوں کا طوفان برپا ہوجاتا ہے۔ دن بھر پولیس اور ریسکیو کی ایمبولینسیز کے سائرن اور ہیلی کاپٹر کی پروازوں کا شور رہتا ہے جبکہ شام ڈھلتے ہی جنگلی جانوروں کی دلخراش چیخیں اور آگ کی لپٹوں کی ترتراہٹ ماحول کی وحشت بڑھا دیتی ہے، ہوا میں کاربن اور ہیلیم کی مقدار میں
خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے اور سانس لینے کے لئے آکسیجن کی شرح گراونڈ لیول سے محض تیرہ فٹ تک رہ گئی ہے۔ ساوتھ کا ٹمپریچر 79 ڈگری تک پہنچ چکا ہے۔ اب تک آگ میں ہلاکتوں کی تعداد سو سے کم ہے مگر آدھی ریاست جل چکی ہے۔ دھوئیں کا پیرامڈ ائیر پولوشن میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے ماہرین اس آگ کو کلائمٹ چینجر کہہ رہے ہیں،
یعنی کے آگ پہ قابو پالینے کے بعد بھی دنیا کے موسموں میں انتہائی حیرت انگیز تبدیلی آئے گی، گرمیوں کا دورانیہ اپریل سے دسمبر تک پہنچ سکتا ہے جس سے گلیشئر پگلنے کی شرح میں اضافہ ہو گا۔امریکہ میں لگنے والی یہ آگ دنیا کے سات براعظموں پہ براہراست اثر انداز ہو رہی ہے،
 سمندر پہ چلنے والی ہواوں میں کمبسچیبل گیسسز کے ملنے سے نئے مرکب تیار ہو رہے ہیں جن کے نتیجے میں انتہائی زہریلی گیسس پروڈیوز ہو رہی ہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب ایشیاء اور افریقہ میں لال رنگ کے بادلوں سے سرمئی رنگ کی بارشیں ہونگی،
اور فصیلیں ان تیزابی بارشوں سے برباد ہوجائیں گی، اور زمین کے اندر کا پانی بھی پینے کے قابل نہیں رہے گا۔ کیلفورنیہ کی یہ آگ صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے شامت عمال ثابت ہونے کو ہے۔